کہی آپکو بھی منکی پوکس تو نہیں؟ کیا پاکستان میں منکی پوکس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے؟




 منکی پوکس کے وائرس کی اقسام

وسطی افریقی قسم

یہ قسم زیادہ شدید ہوتی ہے اور اس سے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔


مغربی افریقی قسم

اس قسم کی شدت کم ہوتی ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کا صحت یاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

منکی پوکس کی علامات

منکی پوکس کی ابتدائی علامات فلو کی علامات سے ملتی جلتی ہیں، جن میں شامل ہیں:


بخار

سردی لگنا

سر درد

پٹھوں میں درد

تھکاوٹ اور سوجن لمف نوڈز

چند دنوں بعد، جلد پر دانے ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں جو چہرے سے شروع ہو کر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں۔ یہ دانے ابتدا میں سرخ اور چپٹے ہوتے ہیں اور پھر چھالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن میں پیپ بھری ہوتی ہے۔ چند دنوں بعد، یہ چھالے خشک ہو کر جھڑ جاتے ہیں۔

منکی پوکس کا جغرافیائی پھیلاؤ

منکی پوکس زیادہ تر افریقہ کے مختلف ممالک میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر جمہوریہ کانگو میں۔ تاہم، یہ وائرس دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ 2003 میں، امریکہ میں پہلی بار افریقہ سے باہر منکی پوکس کی وبا پھیلی۔ اس کے بعد، 2021 میں بھی امریکہ میں ایک شخص میں یہ وائرس پایا گیا جو نائجیریا سے واپس آیا تھا۔


پاکستان میں منکی پوکس کی صورتحال

پاکستان میں بھی منکی پوکس کا ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس بیماری کو عالمی صحت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں، خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک مریض کی تشخیص کی گئی جو حال ہی میں خلیجی ممالک سے واپس آیا تھا۔ اس صورتحال میں، پاکستان سمیت تمام ممالک کو احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔

تحقیق اور علاج

منکی پوکس پر تحقیق جاری ہے، اور سائنسدان مختلف تجربات کے ذریعے ویکسین اور اینٹی وائرل ادویات کی تاثیر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ چونکہ منکی پوکس کا وائرس چیچک کے وائرس سے بہت ملتا جلتا ہے، اس لیے مستقبل میں جینیاتی موازنہ اور تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

احتیاطی تدابیر

منکی پوکس کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً کسی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ بروقت علاج سے اس بیماری کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو منکی پوکس کی علامات محسوس ہوں، تو بہتر ہے کہ آپ خود کو دوسروں سے الگ کریں تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔


اگر آپ کو مزید معلومات یا مشورہ چاہیے، تو ماہر جلد سے رابطہ کریں:


Comments